بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آج (منگل 27 اکتوبر 2026) کے اجلاس میں رہبر انقلاب سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اراکین چاہتے تھے کہ میں رہبر انقلاب سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں کچھ وضاحت دوں۔ اسی لئے میں نے فیصلہ کیا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختصراً چند نکات اس ایوان میں بیان کروں:
دوسرا اور آخری حصہ:
• انھوں نے ساتویں ترقیاتی منصوبے کے بارے میں بھی نکات بیان کئے جو مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) کی تیسری نشست کے نام ان کے پیغام میں بھی بیان ہوئے تھے؛ خاص طور پر تعمیر نو اور اس سے متعلق اقدامات کے شعبے میں، جن کا کچھ حصہ ابھی جاری ہے۔
• زیر بحث آنے والے موضوعات کا ایک اور حصہ فوجی امور، جنگ اور محاذ مقاومت سے متعلق موضوعات کے لئے مختص تھا جو قابل توجہ اہمیت کا حامل ہے۔
• سفارت کاری اور مذاکرات کے شعبے میں اہم نکات بیان ہوئے۔ انھوں نے معاشی جنگ کے بارے میں، ـ خاص طور پر معاشی دباؤ اور محاصرے کے حوالے سے ـ اہم نکات بیان کئے اور انہیں اس حوالے سے رپورٹس پیش کی گئیں اور ان پر بحث ہوئی۔
• رہبر معظم ـ خاص طور پر ـ قومی برداشت اور پائیداری (Sustainability) کے شعبے میں عوام کی خدمت، حکام کے درمیان زیادہ سے زیادہ اتحاد اور مختلف موضوعات پر مضبوط اور متحدہ موقف اختیار کرنے پر زور دیتے ہیں؛ یہ مسئلہ خاص طور پر حکام کے درمیان اور ترجیحاً [تین اداروں کے] سربراہوں کی سطح پر بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں خوش قسمتی سے ضروری ہم آہنگی موجود ہے۔
• ان کے تاکید کردہ دیگر موضوعات میں سے ایک ہمارے اسٹریٹجک شراکت داروں، خاص طور پر چین کے ساتھ تعلقات اور گفتگو کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ رہا۔ یہ ان مسائل میں سے ہے جن کی وہ مسلسل پیروی کرتے ہیں اور اس سلسلے میں بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں اور ان مسائل پر کام جاری رکھنے پر زور دیتے ہیں۔
• رہبر معظم حکومت اور پارلیمنٹ کے تعاون پر بھی زور دیتے ہیں؛ ان شاء اللہ ہم سب کو اس پر توجہ دینی چاہئے اور اسے حقیقت کا جامہ پہنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔
• بہرحال، اگر میں ان تمام باتوں کو ایک جملے میں خلاصہ کرنا چاہوں تو کہوں گا کہ یہ ہمارے امام کبیر حضرت امام خمینی اور ہمارے امامِ شہید کا قول ہے جس پر ہمارے موجودہ امام تاکید فرماتے ہیں کہ "کامیابی، کامرانی، فتح، اور تناؤ اور چیلنجوں سے گذرنے کا راز قول و عمل میں ہم آہنگی اور اتحاد ہے۔"
• اس لئے ہمیں قول میں بھی اور عمل میں بھی متحد ہونا چاہئے اور اس قرآنی تعبیر کا مصداق نہیں بننا چاہئے کہ "بات تو کریں لیکن خود اس پر عمل نہ کریں۔" ہمیں مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہئے، اس راستے پر چلنا چاہئے اور ان دنوں ـ جبکہ ہم جنگی حالات میں ہیں ـ اپنے ولی امر اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف حضرت آیت اللہ امام سید مجتبی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کے احکامات اور راہنمائیوں پر عمل کرنے میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کرنی چاہئے اور سنجیدگی سے اپنا مشن جاری رکھنا چاہئے۔
قالیباف نے آخر میں نشاندہی کی:
• ہمیں ہمیشہ یہ بات اپنی سماعتوں اور جان و دل میں رکھنی چاہئے جو ہمارے امام کبیر (رضوان اللہ علیہ) نے فرمائی: "ولایت فقیہ کے پشت پناہی کرتے رہو تاکہ تمہارے ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے۔"
• امید ہے کہ ہم اسی راستے پر گامزن رہیں گے اور اتحاد و یک دلی کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھیں گے، ان شاء اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ